Friday, 13 October 2017

   کہے تو کون کہے سرگذشت آخر شب  جنوں ہے سر بہ گریباں خرد ہے مہر بہ لب   حدود شوق کی منزل سے تا بہ حد ادب  ہزار مرحلۂ جاں گداز و صبر طلب   یہ عالم قد و گیسو یہ حسن عارض و لب  تمام نکہت و نغمہ تمام شعر و ادب   بدل سکا نہ زمانہ مزاج اہل جنوں  وہی دلوں کے تقاضے وہی نظر کی طلب   ہزار حرف‌ حکایت وہ ایک نیم نگاہ  ہزار وعدہ و پیماں وہ ایک جنبش لب   تھکے تھکے سے ستارے دھواں دھواں سی فضا  بہت قریب ہے شاید سواد منزل شب   سرورؔ منزل جاناں ہے کب سے چشم براہ  بھٹک رہا ہے کہاں کاروان شوق و طلب   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرور بارہ بنکوی

کہے تو کون کہے سرگذشت آخر شب 
جنوں ہے سر بہ گریباں خرد ہے مہر بہ لب 

حدود شوق کی منزل سے تا بہ حد ادب 
ہزار مرحلۂ جاں گداز و صبر طلب

یہ عالم قد و گیسو یہ حسن عارض و لب 
تمام نکہت و نغمہ تمام شعر و ادب

بدل سکا نہ زمانہ مزاج اہل جنوں 
وہی دلوں کے تقاضے وہی نظر کی طلب

ہزار حرف‌ حکایت وہ ایک نیم نگاہ 
ہزار وعدہ و پیماں وہ ایک جنبش لب

تھکے تھکے سے ستارے دھواں دھواں سی فضا 
بہت قریب ہے شاید سواد منزل شب

سرورؔ منزل جاناں ہے کب سے چشم براہ 
بھٹک رہا ہے کہاں کاروان شوق و طلب 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرور بارہ بنکوی 

Saturday, 7 October 2017

آ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد ۔۔ منور خان غافل

دیوان غافل مطبع نول کشور سے یہ غزل دیکھ کر نقل کی گئی۔

آ کے سجّادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی مری جا میرے بعد

میان میں اس نے جو کی تیغِ جفا میرے بعد
خوں گرفتہ کوئی کیا اور نہ تھا میرے بعد

دوستی کا بھی تجھے پاس نہ آیا ہے ہے
تُو نے دشمن سے کیا میرا گلا میرے بعد

گرم بازار ہی الفت ہے مجھی سے ورنہ
کوئی لینے کا نہیں نامِ وفا میرے بعد

منہ پہ لے دامنِ گُل روئیں گے مرغانِ چمن
باغ میں خاک اڑائے گی صبا میرے بعد

چاک اسی غم سے گریبان کیا ہے میں نے
کون کھولے گا ترے بندِ قبا میرے بعد

اب تو ہنس ہنس کے لگاتا ہے وہ مہندی لیکن
خوں رُلائے گا اسے رنگِ حنا میرے بعد

میں تو گلزار سے دل تنگ چلا غنچہ روش
مجھ کو کیا پھر جو کوئی پھول کھِلا میرے بعد

وہ ہوا خواہِ چمن ہوں کہ چمن میں ہر صبح
پہلے میں آتا ہوں اور بادِ صبا میرے بعد

سن کے مرنے کی خبر یار مرے گھر آیا
یعنی مقبول ہوئی میری دعا میرے بعد

ذبح کر کے مجھے نادم یہ ہوا وہ قاتل
ہاتھ میں پھر کبھی خنجر نہ لیا میرے بعد

میری ہی زمزمہ سنجی سے چمن تھا آباد
کیا صیاد نے اک اک کو رہا میرے بعد

آ گیا بیچ میں اس زلف کی اک میں نادان
نہ ہوا کوئی گرفتارِ بلا میرے بعد

قتل تو کرتے ہو پر خوب ہی پچھتاؤ گے
مجھ سا ملنے کا نہیں اہلِ وفا میرے بعد

برگِ گُل لائی صبا قبر پہ میرے نہ نسیم
پھِر گئی ایسی زمانے کی ہوا میرے بعد

گر پڑے آنکھ سے اس کی بھی یکایک آنسو
ذکر محفل میں جو کچھ میرا ہوا میرے بعد

تہِ شمشیر یہی سوچ ہے مقتل میں مجھے
دیکھیے اب کسے لاتی ہے قضا میرے بعد

شرط یاری یہی ہوتی ہے کہ تُو نے غافلؔ
بھول کر بھی نہ مجھے یاد کیا میرے بعد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

منور خان غافلؔ

Friday, 6 October 2017

تصویر کے خطوط نگاہوں سے ہٹ گئے​ ۔۔ شہزاد احمد

تصویر کے خطوط نگاہوں سے ہٹ گئے​
میں جن کو چومتا تھا وہ کاغذ تو پھٹ گئے​
انسان اپنی شکل کو پہچانتا نہیں​
آ آ کے آئینوں سے پرندے چمٹ گئے​
بنتی رہی وہ ایک سویٹر کو مدتوں​
چپ چاپ اس کے کتنے شب و روز کٹ گئے​
کس شوق سے وہ دیکھ رہے تھے ہجوم کو​
جب میں نظر پڑا تو دریچے سے ہٹ گئے​
آخر کسی کشش نے انھیں کھینچ ہی لیا​
دروازے تک نہ آئے تھے آکر پلٹ گئے​
پت جھڑ میں اک کلی بھی میسر نہ آسکی​
پس سگرٹوں کی راکھ سے گلدان اَٹ گئے​
بدلا ہوا دکھائی دیا آسماں کا رنگ​
ذرے زمیں سے، شاخ سے پتے لپٹ گئے​
اتنا بھی وقت کب تھا کہ پتوار تھام لیں​
ایسی چلی ہوا کہ سفینے اُلٹ گئے​
پابندیاں تو صرف لگی تھیں زبان پر​
محسوس یہ ہوا کہ مرے ہاتھ کٹ گئے​
کچھ سرد تھی ہوا بھی نظر کے دیار کی​
کچھ ہم بھی اپنے خول کے اندر سمٹ گئے​
ہر سُو دکھائی دیتے ہیں نیزہ بدست لوگ​
اے کاخِ ظلم تیرے طرف دار گھٹ گئے​
شہزاد پھر سے رخت سفر باندھ لیجیے​
رستے بھی سوکھ جائیں گے، بادل تو چھٹ گئے​


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہزاد احمد ​

Tuesday, 3 October 2017

ہوا نمناک ہوتی جا رہی ہے ۔۔ رئیس الدین رئیس

ہوا نمناک ہوتی جا رہی ہے 
حویلی خاک ہوتی جا رہی ہے


دریچہ کھولتے ہی تھم گئی ہے 
ہوا چالاک ہوتی جا رہی ہے


ہمارے حوصلوں کے آگے مشکل 
خس و خاشاک ہوتی جا رہی ہے


لہو کے ہاتھ دھوئے جا رہے ہیں 
ندی ناپاک ہوتی جا رہی ہے


نئی تہذیب سے یہ نسل نو اب 
بہت بیباک ہوتی جا رہی ہے


سمندر تھام لے موجوں کو اپنی 
زمیں تیراک ہوتی جا رہی ہے


محبت نفرتوں کے بیچ پل کر 
بڑی سفاک ہوتی جا رہی ہے


بہ فیض شاعری شہر ہنر میں 
ہماری دھاک ہوتی جا رہی ہے


۔۔۔۔۔۔۔
رئیس الدین رئیس

Monday, 2 October 2017

وہ جو مست آنکھوں کو مل کر رہ گئے ۔۔ خمار بارہ بنکوی

وہ جو مست آنکھوں کو مل کر رہ گئے
کیسے کیسے دور چل کر رہ گئے


آہ جن اشکوں کو پی جانا پڑا
اُف جو دریا رُخ بدل کر رہ گئے


لغزشیں بے کیف سجدے بے مزا
دل جو بدلا سب بدل کر رہ گئے


غم کسے ہو آشیانے کا مرے
چار تنکے ہی تو جل کر رہ گئے


ہم تو بہکے عشق میں ناصح مگر
ہائے رے وہ جو سنبھل کر رہ گئے


وقت کے ہاتھوں ہزاروں کارواں
منزلیں اپنی بدل کر رہ گئے


مسکرانے کے ارادے اے خمار
بارہا اشکوں میں ڈھل کر رہ گئے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خمار بارہ بنکوی

Wednesday, 9 August 2017

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔ آغا حشر کاشمیری

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں

ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں

اور وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ
بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں

آرزوؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
جب بہار آئے گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں

حشرؔ میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
اپنا غم دل کی زباں میں دل کو سمجھاتا ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا حشر کاشمیری

Saturday, 11 February 2017

اس ستم گر سے جو ملا ہوگا ۔۔۔ میر محمد بیدار

اس ستم گر سے جو ملا ہوگا جان سے ہاتھ دھو چکا ہوگا  عشق میں تیرے ہم جو کچھ دیکھا نہ کسی نے کبھی سنا ہوگا  آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا  تو ہی آنکھوں میں تو ہی ہے دل میں کون یاں اور تجھ سوا ہوگا  اے میاں گل تو کھل چکے پہ کبھو غنچۂ دل مرا بھی وا ہوگا  دیکھ تو فال میں کہ وہ مجھ سے نہ ملے گا ملے گا کیا ہوگا  ہے یقیں مجھ کو تجھ ستم گر سے دل کسی کا اگر لگا ہوگا  نالہ و آہ کرتے ہی کرتے ایک دن یوں ہی مر گیا ہوگا  کوئی ہوگا کہ دیکھ اسے بیدارؔ دل و دیں لے کے تج رہا ہوگا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میر محمد بیدار

اس ستم گر سے جو ملا ہوگا
جان سے ہاتھ دھو چکا ہوگا

Friday, 10 February 2017

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے ۔۔ شاہد ذکی

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے  کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے  نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے  میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے  میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے  وہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیں یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے  میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں اور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھے  روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے  جرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والا اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے  لاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہد ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے  ۔۔۔۔۔ شاہد ذکی

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے

جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں
دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے

Thursday, 9 February 2017

اندھا کباڑی ۔۔ ن م راشد

اندھا کباڑی -- از ن م راشد  شہر کے گوشوں میں ھیں بکھرے ھوئے پا شکستہ سر بریدہ خواب جن سے شہر والے بے خبر!  گھومتا ھوں شہر کے گوشوں میں روز و شب کہ ان کو جمع کر لوں  دل کی بھٹی میں تپاؤں جس سے چھٹ جائے پرانا میل ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن جیسے نو آراستہ دولھوں کے دل کی حسرتیں !پھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے   "خواب لے لو خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " صبح ھوتے ہی چوک میں جا کر لگاتا ھوں صدا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "خواب اصلی ہیں کہ نقلی" یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر  خواب داں کوئی نہ ھو!  خواب گر میں بھی نہیں صورت گر ثانی ھوں بس ۔۔۔۔۔۔۔  ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں!  شام ھو جاتی ھے میں پھر سے لگاتا ھوں صدا ۔۔۔۔۔۔۔ "مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "مفت" سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "دیکھنا یہ "مفت" کہتا ھے  کوئی دھوکا نہ ھو! ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ھو گھر پہنچ کر ٹوٹ جائیں یا پگھل جائیں یہ خواب بھک سے اڑ جائیں کہیں یا ھم پہ کوئی سحر کر ڈالیں یہ خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی نہیں کس کام کے؟ ایسے کباڑی کے یہ خواب ایسے نابینا کباڑی کے یہ خواب!"  رات ھو جاتی ھے  خوابوں کے پلندے سر پہ رکھ کر منہ بسورے لوٹتا ھوں رات بھر پھر بڑبڑاتا ھوں "یہ لے لو خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔" اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی خواب لے لو، خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خو ا ا ا ا ب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے د ا ا ا ا م بھی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"


اندھا کباڑی

شہر کے گوشوں میں ھیں بکھرے ھوئے
پا شکستہ سر بریدہ خواب
جن سے شہر والے بے خبر!

Monday, 6 February 2017

دلی میں دردؔ کی تلاش ۔۔ بشکریہ ذیشان احمد اور ڈان نیوز ٹی وی

درد کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کدھر چلے

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ دلی نے حکمرانوں اور حاکم خاندانوں کے عروج و زوال کو دیکھا ہے۔ یہاں نہ صرف برِصغیر کی تاریخ کے رخ بدلے ہیں بلکہ تہذیب اور زبان کا بھی ارتقاء چلتا رہا ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ دلی کے نام سے اردو شاعری جڑی ہوئی ہے۔

اکثر اردو کو مغلیہ سلطنت سے منسلک کیا جاتا ہے جو کہ درست نہیں۔ اردو، مغلیہ دربار کے عروج سے پستی کے سفر کے دوران ابھری، اپنے پیر جمائے اور دربار میں چلی آئی۔ اسے ستم ظریفی کہیے کہ جہاں مغلیہ دربار کا زوال تھا، وہیں اردو بلندیاں طے کر رہی تھی۔

Tuesday, 31 January 2017

گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے ۔۔۔ احمد فراز

گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے  کہ ہم اداس بہت تھے مگر نہ تھے ایسے یہاں بھی پھول سے چہرے دکھا ئی دیتے تھے  یہ اب جو ہیں یہی دیوار و در نہ تھے ایسے ملے تو خیر نہ ملنے پہ رنجشیں کیسی  کہ اس سے اپنے مراسم تھے پر نہ تھے ایسے رفاقتوں سے مرا ہوں مسافتوں سے نہیں  سفر وہی تھا مگر ہم سفر نہ تھے ایسے ہمیں تھے جو ترے آنے تلک جلے ورنہ  سبھی چراغ سر رہگزر نہ تھے ایسے دل تباہ تجھے اور کیا تسلی دیں  ترے نصیب ترے چارہ گر نہ تھے ایسے احمد فراز

گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے
 کہ ہم اداس بہت تھے مگر نہ تھے ایسے

Wednesday, 25 January 2017

سینما کا عشق ۔۔ پطرس بخاری

خدا کے فضل سے ہم سینما کبھی وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ اس میں میری سستی کوذرا دخل نہیں‘ یہ سب قصور ہمارے دوست مرزا صاحب کا ہے۔ وہ کہنے کو تو دوست ہیں لیکن خدا شاہد ہے‘ کہ ان کی دوستی سے جو نقصان ہمیں پہنچے‘ کسی دشمن کے بھی قبضہ قدرت سے باہر ہوں گے۔  جب سینما جانے کا ارادہ ہوتا‘ تو ہفتہ بھر پہلے انھیں کہہ دیتا کہ بھئی مرزا جی! اگلی جمعرات کو سینما چلو گے نا؟ میری مراد یہ ہوتی کہ وہ پہلے سے تیار رہیں اور اپنی تمام مصروفیتیں کچھ اس ڈھب سے ترتیب دے لیں کہ جمعرات کے دن ان کے کام میں کچھ حرج واقع نہ ہو۔ لیکن وہ جواب میں عجیب قدر شناسی فرماتے:  ’’ارے بھئی چلیں گے کیوں نہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ ہمیں تفریح کی ضرورت نہیں ہوتی اور پھر کبھی ہم نے ایسی بے مروتی آج تک برتی ہے کہ تم نے چلنے کو کہا ہو اور پھر ہم نے تمہارا ساتھ نہ دیا ہو۔‘‘  ان کی تقریر سن کر میںکھسیانا سا ہو جاتا۔ کچھ دیر چپ رہتا اور پھر دبی زبان سے کہتا ’’بھئی اب کے ہو سکا تو وقت پر پہنچیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟‘‘ میری یہ بات عام طور پر ٹال دی جاتی‘ کیونکہ اس سے ان کا ضمیر کچھ تھوڑا سا بیدار ہو جاتا۔ خیر میں بہت زور نہیں دیتا‘ صرف ان کوبات سمجھانے کے لیے اتنا کہہ دیتا ’’کیوں  بھئی! آج کل سینما چھے بجے شروع ہو جاتا ہے نا؟‘‘ ’’مرزا صاحب عجیب معصومیت کے انداز میں جٖواب دیتے ’’بھئی یہ ہم کو معلوم نہیں۔‘‘ ’’میرا یہ خیال ہے چھے بجے ہی شروع ہوتا ہے۔‘‘  ’’اب تمہارے خیال کی کوئی سند نہیں…‘‘ ’’نہیں مجھے یقین ہے‘ چھے بجے شروع ہوتا ہے۔‘‘ ’’تمھیں یقین ہے تو میرا دماغ کیوں مفت میں چاٹ رہے ہو؟‘‘ اس کے بعد آپ ہی کہیے کہ کیا بولوں؟  خیر جناب! جمعرات کے دن چار بجے ان کے مکان پہنچتا ہوں‘ اس خیال سے کہ جلدی جلدی انھیں تیار کرا کے وقت پر پہنچ جائیں۔مگر دولت خانے پر تو آدم نہ آدم زاد‘ سارے مردانے کمرے گھوم جاتا ہوں‘ ہر کھڑکی سے جھانکتا ہوں‘ ہر شگاف سے آواز دیتا ہوں‘ لیکن کہیں سے رسید نہیں ملتی۔ آخر تنگ آ کر ان کے کمرے میں بیٹھ جاتا اور دس پندرہ منٹ سیٹیاں بجاتا رہتا ہوں۔ دس پندرہ منٹ بلاٹنگ پیپر پر تصویریں بناتا ہوں۔ پھر سگریٹ سلگاتا اور باہر ڈیوڑھی میں نکل کر اِدھر اُدھر جھانکتا ہوں۔ وہاں بدستور ہُوکا عالم دیکھ کر کمرے میں واپس آتا اور اخبار پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔  ہر کام کے بعد مرزا صاحب کو آواز دے لیتا ہوں‘ اس اُمید پر کہ شاید ساتھ کے کمرے میں یا عین اوپر کے کمرے میں تشریف لے آئے ہوں۔ سو رہے تھے تو ممکن ہے جاگ اٹھے ہوں۔ نہا رہے تھے‘ تو شاید غسل خانے سے باہر نکل چکے ہوں لیکن میری آواز مکان کی وسعتوں سے گونج کر واپس آ جاتی ۔ آخرکار ساڑھے پانچ بجے کے قریب زنانے سے تشریف لاتے ہیں۔ میں اپنا کھولتا خون قابو میں لا کر متانت اور اخلاق بڑی مشکل سے مدنظر رکھ کر پوچھتا ہوں:  ’’کیوں حضرت… آپ اندر ہی تھے؟میری آواز آپ نے نہیں سنی؟‘‘ ’’اچھا یہ تم تھے‘ میں سمجھا کوئی اور ہے۔‘‘ آنکھیں بند کر کے سر پیچھے ڈال لیتا اور دانت پیس کر غصے کو پی جاتا ہوں۔ پھر کانپتے ہوئے ہونٹوں سے پوچھتا ہوں ’’تو اچھا آپ چلیں گے یا نہیں؟‘‘ ’’کہاں… ‘‘  ’’ارے بندہ خدا‘ آج سینما نہیں جانا؟‘‘ ’’ہاں ہاں‘ سینما سینما۔‘‘یہ کہہ کر وہ کرسی پر بیٹھ جاتے اور کہتے ہیں ’’میں بھی سوچ رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے ایسی جو مجھے یاد نہیں آتی‘ اچھا ہوا تم نے یاد دلا دیا… ورنہ مجھے رات بھر الجھن ہی رہتی۔‘‘ ’’تو پھر اب چلیں؟‘‘  ’’ہاں وہ تو چلیں گے ہی‘ میں سوچ رہا تھا کہ آج ذرا کپڑے بدل لیتے‘ خدا جانے دھوبی کمبخت کپڑے بھی لایا ہے یا نہیں‘ یار اِن دھوبیوں کا تو کوئی انتظام کرو۔ اگر قتل انسانی ایک سنگین جرم نہ ہوتا تو ایسے موقع پر مجھ سے ضرور سرزد ہو جاتا۔ لیکن کیا کروں‘ اپنی جوانی پر رحم کھاتا ہوں‘ بے بس ہوں‘ صرف یہ ہی کہہ سکتا ہوں۔‘‘  ’’بھئی مرزا‘ اللہ مجھ پر رحم کرو‘ میں سینما چلنے کو آیا ہوں‘ دھوبیوں کا انتظارکرنے نہیں۔ یار بڑے بدتمیز معلوم ہوتے ہو‘ پونے چھے بج چکے اور تم جوں کے توں بیٹھے ہو۔‘‘ مرزا صاحب عجیب مربیانہ تبسم کے ساتھ کرسی سے اٹھتے ہیں۔ گویا یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اچھا بھئی‘ تمہاری طفلانہ خواہش آخر پوری کر ہی دیں۔ چناںچہ پھر یہ کہہ کر تشریف لے جاتے ہیں کہ اچھا کپڑے پہن آئوں۔  مرزا صاحب کے کپڑے پہننے کا عمل اس قدر طویل ہے کہ اگر میرا اختیار چلے تو قانون کی رو سے انھیں کپڑے اتارنے ہی نہ دوں۔ آدھ گھنٹے بعد وہ کپڑے پہنے تشریف لاتے ہیں۔ ایک پان منہ میں اور دوسرا ہاتھ میں بھی‘ میں اٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔ دروازے تک پہنچ کر مڑ کے دیکھتا ہوں تو مرزا صاحب غائب‘ پھر اندر جاتا ہوں‘ مرزا صاحب کسی کونے میں کھڑے کچھ کرید کر رہے ہیں۔  ’’ارے بھائی چلو…‘‘ ’’چل تو رہا ہوں یار‘ آخر اتنی بھی کیا آفت ہے؟‘‘ ’’اور یہ تم کیا کر رہے ہو؟‘‘ ’’پان کے لیے تمباکو لے رہا تھا۔‘‘  تمام راستے مرزا صاحب چہل قدمی فرماتے رہے۔ میں ہر دو تین لمحے کے بعد اپنے آپ کو ان سے چار پانچ قدم آگے پاتا۔ کچھ دیر ٹھہر جاتا تو پھر چلنا شروع کر دیتا… پھر آگے نکل جاتا… پھر ٹھہر جاتا… غرض چلتا دوگنی رفتار سے ہوں اور پہنچتا ان کے ساتھ۔  ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوئے تو اندھیر ا گھپ‘ بہتیرا آنکھیں جھپکاتا‘ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ ادھر سے کوئی آواز لگاتا ’’دروازہ بند کر دو جی۔‘‘ یااللہ اب جائوں کہاں… رستہ‘ کرسی‘ دیوار‘ آدمی کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔ ایک قدم اور آگے بڑھاتا تو سر ان بالٹیوں سے جا ٹکراتا جو آگ بجھانے کے لیے دیوار پر لٹکتی رہتی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد تاریکی میں کچھ دھندلے سے نقش دکھائی دینے لگتے۔ جہاں ذرا تاریک سا دھبا دکھائی دے جائے‘ وہاں سمجھتا خالی کرسی ہو گی۔ خمیدہ کمر ہو کر اس کا رخ کرتا۔ اس کے پائوں کو پھاند‘ اس کے گھٹنوں سے ٹکرا‘ خواتین سے دامن بچا آخرکار کسی کی گود میں جا بیٹھتا تو وہاں سے نکال دیا جاتا۔  لوگوں کے دھکوں کی مدد سے آخر ایک کرسی تک جا پہنچا۔مرزا صاحب سے کہتا ’’میں نہ بکتا تھا کہ جلدی چلو‘ خوامخواہ ہم کو رسوا کر دیا نا! ’’گدھا کہیں کا!‘‘اس شگفتہ بیانی سے معلوم ہوتا کہ ساتھ کی کرسی پر جو بزرگ بیٹھے ہیں اور جن کو میں مخاطب کر رہا ہوں‘ وہ مرزا صاحب نہیں کوئی اور بزرگ ہیں۔  اب تماشے کی طرف متوجہ ہوتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا کہ فلم کون سی ہے؟ اب اس کی کہانی کیا ہے؟ اور کہاں تک پہنچ چکی؟ سمجھ میں صرف اس قدر آتا کہ ایک عورت ہے جو کسی مسئلے سے نمٹنا چاہتی ہے۔ اتنے میں آگے کی کرسی پر بیٹھے حضرت ایک وسیع اور فراخ انگڑائی لیتے۔ اس دوران کم از کم تین سو فٹ فلم گزر جاتی۔ جب انگڑائی لپیٹ لیتے تو سر کھجانا شروع کرتے۔ اس عمل کے بعد ہاتھ کو سر سے نہیں ہٹاتے بلکہ بازو ویسے ہی خمیدہ رکھتے۔ میں مجبوراً سر نیچا کر کے چائے دانی کے دستے کے بیچ میں سے اپنی نظر کے لیے رستہ نکال لیتا۔  بیٹھنے کے انداز سے ایسا معلوم ہوتا جیسے ٹکٹ خریدے بغیر اندر گھس آیا اور چوروں کی طرح بیٹھا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد انھیں کرسی کی پشت پر کوئی مچھر یا پالتو پسو معلوم ہوتا۔ چناںچہ وہ دائیں طرف سے اونچے ہو کر بائیں طرف کو جھک جاتے۔ میں مصیبت کا مارا بھی دوسری طرف جھک جاتا۔ ایک دو لمحے بعد ہی وہ مچھر دوسری طرف ہجرت کر جاتا۔ چناںچہ ہم دونوںبھی پینترا بدل لیتے۔ غرض یہ دل لگی یوں ہی جاری رہتی۔ وہ دائیںتو میں بائیں‘ میں بائیں تو وہ دائیں۔ ان کو کیامعلوم کہ اندھیرے میں کیا کھیلا جا رہا ہے۔ دل تو یہی چاہتا کہ اگلے درجے کا ٹکٹ لے کر ان کے آگے جا بیٹھوں اور کہوں ’’لے بیٹا، دیکھو تو اب تو کیسے فلم دیکھتا ہے۔‘‘  پیچھے سے مرزا صاحب کی آواز آتی ’’یار تم سے نچلا نہیں بیٹھا جاتا‘اب جو ہمیں ساتھ لائے ہو تو فلم دیکھنے دو۔‘‘  میں غصے میں آ کر آنکھیں بند کرتا اور قتل عمداً ‘ خودکشی‘ زہر خورانی کے معاملات پر غور کرنے لگتا۔ دل میں کہتا‘ ایسی کی تیسی اس فلم کی‘ سو سو قسمیں کھاتا کہ پھر کبھی نہ آئوں گا۔ اور اگر آیا بھی تو اس کمبخت مرزا سے ذکر نہیں کروں گا۔ پانچ چھے گھنٹے پہلے آ جائوںگا۔ اوپر کے درجے میں سب سے اگلی قطار میں بیٹھوں گا۔ تمام وقت اپنی نشست پر اُچھلتا رہوں گا۔ بہت بڑے طرے والی پگڑی پہن کر آئوں گا۔ اپنے اوورکوٹ کو دو چھڑیوں پر لٹکا دوں گا۔ بہرحال مرزا کے پاس نہ پھٹکوں گا۔  لیکن اس کم بخت دل کو کیا کرو‘ اگلے ہفتے پھر کسی اچھی فلم کا اشتہار دیکھ پاتا تو سب سے پہلے مرزا کے پاس جاتا اور گفتگو پھر وہیں سے شروع ہو جاتی۔ ’’کیوں بھئی مرزا اگلی جمعرات کوسینما چلو گے نا؟‘‘

خدا کے فضل سے ہم سینما کبھی وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ اس میں میری سستی کوذرا دخل نہیں‘ یہ سب قصور ہمارے دوست مرزا صاحب کا ہے۔ وہ کہنے کو تو دوست ہیں لیکن خدا شاہد ہے‘ کہ ان کی دوستی سے جو نقصان ہمیں پہنچے‘ کسی دشمن کے بھی قبضہ قدرت سے باہر ہوں گے۔

جب سینما جانے کا ارادہ ہوتا‘ تو ہفتہ بھر پہلے انھیں کہہ دیتا کہ بھئی مرزا جی! اگلی جمعرات کو سینما چلو گے نا؟ میری مراد یہ ہوتی کہ وہ پہلے سے تیار رہیں اور اپنی تمام مصروفیتیں کچھ اس ڈھب سے ترتیب دے لیں کہ جمعرات کے دن ان کے کام میں کچھ حرج واقع نہ ہو۔ لیکن وہ جواب میں عجیب قدر شناسی فرماتے:

Tuesday, 24 January 2017

ایک عالم پہ بار ہیں ہم لوگ ۔۔ فراق گورکھپوری

یک عالم پہ بار ہیں ہم لوگ کس کے دل کا غبار ہیں ہم لوگ  صد بقا، صد فنا کی ہیں تصویر عالمِ انتظار ہیں ہم لوگ  ہم سے پھوٹی شعاعِ صبح حیات مطلعِ روزگار ہیں ہم لوگ  ہم میں پنہاں رموزِ نشو و نمو پردہ دارِ بہار ہیں ہم لوگ  ہم نے توڑی ہر ایک قیدِ حیات کتنے بے اختیار ہیں ہم لوگ  ہم نے فردا کو کر دیا امروز کیا قیامت شعار ہیں ہم لوگ  زندہ باد انقلاب زندہ باد سر بہ کف ہیں نثار ہیں ہم لوگ  اثرِ درد زندگی سے فراق بے خود و بے قرار ہیں ہم لوگ  یعنی صبحِ ازل سے اپنے لئے ہمہ تن انتظار ہیں ہم لوگ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فراق گورکھپوری


ایک عالم پہ بار ہیں ہم لوگ
کس کے دل کا غبار ہیں ہم لوگ

مرگِ ناگہاں ۔۔ جون ایلیا (حکیم محمد سعید کی شہادت پر کہی گئی نظم)

مرگِ ناگہاں حکیم سعید کی شہادت پر لکھی گئی جون ایلیا کی نظم  کس کا لوٹا ہے کارواں تو نے کیا کیا مرگِ ناگہاں تو نے وقت کے دلپسند نغموں کو کردیا نالہ و فغاں تو نے چھین کر ایک جانِ شیریں کو تلخ کردی ہے داستاں تو نے کیا بتاؤں میں کتنی آنکھوں کو کر دیا آج خوں فشاں تو نے آفتابِ جہانِ حکمت کو اے فلک! کھو دیا تو نے  یہ خبر' اف یہ حشر خیز صدا اس خبر کا یقیں نہیں آتا  قصرِ انفاس اتنا بے بنیاد خانہِ مرگ و زندگی برباد کیا تخیل ہے یہ نظامِ جہاں؟ کیا تمسخر ہے عالمِ ایجاد؟ کیسے شاداب پھول کمہلائے کیسا آباد گھر ہوا برباد کیسے لوگ اور ان پہ یہ آفت کیسے دل اور ان پہ یہ افتاد جو تھے امداد کرنے والوں میں آہ! اب وہ ہیں قابلِ امداد سوگواروں کی زیست کا مقصد یاد' بس یاد اور کیسی یاد دلِ برباد' عمر بھر آہیں لبِ فریاد' عمر بھر فریاد  آج ہر دل کی آس ٹوٹ گئی خود مسیحا کی نبض چھوٹ گئی  چارہ گر بھی جو یوں گزر جائیں پھر بیمار کس کے گھر جائیں آج کا غم بڑی قیامت ہے آج سب نقشِ غم ابھر جائیں ہے بہاروں کی روح' سوگ نشیں سارے اوراقِ گل' بکھر جائیں کل کا دن' ہائے کل کا دن اے جون! کاش! اس رات ہم بھی مر جائیں ہے شبِ ماتمِ مسیحائی!! اشک دامن میں تا سحر جائیں مرنے والے! ترے جنازے میں کیا فقط ہم بچشمِ تر جائیں  تو نہیں اے! طبیبِ لاثانی مر گئے بو علی گیلانی  خود مسیحا اَجل سے ہار گیا زندگی تیرا اعتبار گیا!! موت بھی ہاتھ مَل رہی ہوگی ایسی کچھ زندگی گزار گیا! آج اسبابِ فن ہوئے برباد آج "قانون" کا وقار گیا دردمندانِ غم کہاں جائیں جب مسیحائےِ روزگار گیا آہ!! دارالشفاء کی ویرانی آج اس گھر کا برگ و بار گیا کیا گزرتی ہے آج اس گھر میں جو بھی آیا' وہ اشکبار گیا ہو گیاعہدِ پُر بہار تمام آہ!! وہ دورِ سازگار گیا  ہوگئی بارگاہِ طب ویران آخری بار لُٹ گیا یونان  آپ تو سو رہے ہیں حجرے میں گھر میں برپا ہے اک شورِ عظیم آپ کو کاش یہ خبر ہوتی ہم پہ نازل ہے کیاعذابِ الیم آپ کے بعد ان غریبوں کو کون سمجھے گا لائقِ تکریم چند لمحوں میں ہو گئی ویران حکمت و فن کی بارگاہِ قدیم  کیا کہیں' کچھ نہیں ہے کہنے کو ہائے! کیا غم ملا ہے سہنے کو  لوگ آئے ہیں ان کو چونکا دو اور ذرا کاغذ و قلم لا دو ان کو لکھنے ہیں نسخہِ ہائے شفاء قبر میں روشنی تو پہنچا دو وہ بہت جلد آنے والے ہیں سب مریضوں کو جا کے سمجھا دو ان کا دل نرم ہے' بہت ہی نرم بین کر کے نہ ان کو ایذا دو لو بر آمد ہوئی وہ مسندِ خاص حکما! جاؤ بڑھ کے کاندھا دو صلحا! ایک صف میں آجائیں فضلا! تم ذرا اتروادو اہلِ خانہ! متاعِ شہر تھے وہ شہر والوں کو جا کہ پُرسا دو  ان کی عظمت کا کچھ حساب نہ تھا شہر کیا! دور تک جواب نہ تھا  بول اے ناصحِ شکیبائی! کیا ضروری تھا موت کیوں آئی دَخل کس کو بھلا مشیت میں کیا مشیت ہے صرف خودرائی کیا میں پوچھوں کہ اُن کے مرنے سے کیا ملا کس نے زندگی پائی؟  خواہشِ زیست کس سے چُھوٹی ہے امتِ صادقین ۔۔ جھوٹی ہے  ۔۔۔ جون ایلیا  https://www.youtube.com/watch?v=F5xPa8Aduqw

مرگِ ناگہاں
حکیم سعید کی شہادت پر لکھی گئی جون ایلیا کی نظم

کس کا لوٹا ہے کارواں تو نے
کیا کیا مرگِ ناگہاں تو نے
وقت کے دلپسند نغموں کو
کردیا نالہ و فغاں تو نے
چھین کر ایک جانِ شیریں کو
تلخ کردی ہے داستاں تو نے
کیا بتاؤں میں کتنی آنکھوں کو
کر دیا آج خوں فشاں تو نے
آفتابِ جہانِ حکمت کو
اے فلک! کھو دیا تو نے

Saturday, 21 January 2017

آفیشل ریختہ ایپ

Download Our Apk Android App
.
Raikhta Official app for android




 Google Drive Link

 Dropbox Link


یہاں سے آپ ہماری اینڈرائیڈ ایپ ڈونلوڈ کر کے انسٹال سکتے ہیں
ہمارا گوگل پلے پر فی الحال کوئی اکاؤنٹ نہیں لیکن ان شا اللہ جلد
ہی یہ ایپ گوگل پلے پر بھی دستیاب ہوگی۔

آپ کے تبصروں اور آرا کا منتظر
:)

Friday, 20 January 2017

جون و فارحہ

ﺗﻢ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥِ ﺟﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ ﮐﻮﻥ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻢ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮭﯽ ﻓﺎﺭحہ  ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺍﮎ ﺟﮩﺎﻥِ ﻧﺎ ﺷﻨﺎﺱ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺑﺲ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﺭﻭﺩِ ﺧﻮﺍﺏِ ﺟﺎﮞ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﺳﺖ ﻭ ﭘﺎ ﺯﻧﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﻣﯿﮟ ﻏﺮﯾﻖِ ﺭﻭﺩِ ﺯﮨﺮِ ﻧﺎﺏ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﺟﻮ ﺗﮭﯿﮟ ﻧﻮﺷﯿﮟ ﺯﺑﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺍﻭﺭ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺯﻣﯿﻦ ﻭ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺍﺏ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺧﺰﺍﮞ ﺍﻧﺪﺭ ﺧﺰﺍﮞ ﺗﻢ ﺑﮩﺎﺭِ ﺑﮯ ﺧﺰﺍﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺧﺎﻧﮧ ﺑﺪﻭﺵ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻣﺮﺍ ﺍﮎ ﻣﮑﺎﻥِ ﺟﺎﻭﺩﺍﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮِ ﺩﺍﺳﺘﺎﮞ ﯾﻌﻨﯽ کہ ﺗﻢ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥِ ﺩﺍﺳﺘﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭﮨﮧ  ﮐﯿﺎ ﺑﮭﻼ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﺟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﻋﺪﻡ ﺗﻢ * ﻧﮩﯿﮟ* ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ *ﮨﺎﮞ * ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﻧﺎ ﻣﮩﺮﺑﺎﮞ ﺗﻢ ﺑَﻼ ﮐﯽ ﻣﮩﺮﺑﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺭﻣﯿﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﯿﺐ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻢ ﻧﺎ ﺩﺭﻣﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺗﮭﻮﮐﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺏ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﺍ ﺯﯾﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﮨﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﺩِ ﺑﺮﯾﻦِ ﺳﺒﺰ ﮐﻮﮎ ﭘﺮ ﺗﻢ ﺍﮎ ﺭﻭﺩِ ﺩُﺧﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﮐﯿﺴﯽ ﺧﻮﺵ ﺑﯿﻨﯽ ﺧﻮﺵ ﺍُﻣﯿﺪﯼ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺣﺸﺮ ﺑﮯ ﺍﻣﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻣﺮﺍ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺳﺐ ﮐﻨﯿﺰﯾﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﺎﻥِ ﻣﻦ ﺗﻢ ﻣﺮﯼ ﻧﻮﺭِ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺟﻮ ﺑﺪﻝ ﭨﮭﮩﺮﯾﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻭﮦ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﮔﮭﭩﯿﺎ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺑﮯ ﻧﺎﻡ ﻭ ﻧﺸﺎﮞ ﺗﻢ ﻣﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻭ ﻧﺸﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺗﻢ ﻧﻮﺍﺋﮯ ﺟﺎﻭﺩﺍﻥِ ﺟﺎﮞ ﮨﻮ ﺟﺎﮞ ﺗﻢ ﻧﻮﺍﺋﮯ ﺟﺎﻭﺩﺍﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺍﯾﮏ ﺩﻝ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﮐﺮﯾﮟ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﮩﺮﺑﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺍﮎ ﺟﮩﺎﻥِ ﺑﮯ ﺟﮩﺎﻥِ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﻢ ﺟﻮ ﺗﮭﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﺎﻧﻤﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ  ﺷﮑﻮﮦ ﮨﺎ ﺷﻮﺭﯾﺪﮔﯽ ﮨﺎ ﺷﻮﺭ ﮨﺎ ﺗﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﻤﺘﺮ ﮔﻤﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﻓﺎﺭحہ ۔۔۔۔

تم سے جو میری جانِ جاں تھیں فارہہ
کون تھیں تم اور کہاں تھی فارہہ

ہوں میں اب اور اک جہانِ نا شناس
تم ہی بس میرا خیال تھیں فارہہ

Tuesday, 17 January 2017

دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں ۔۔ سید عبدالحمید عدم

دن گزر جائیں گے سرکار ـ کوئی بات نہیں زخم بھر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں  آپ کا شہر اگر بار سمجھتا ہے ہمیں کُوچ کر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں  آپ کے جَور کا جب ذکر چھڑا محشرمیں ہم مُکر جائیں گے سرکار ۔۔ کوئی بات نہیں  رو کے جینے میں بھلا کونسی شیرینی ہے ہنس کے مَر جائیں گے سرکار ۔۔ کوئی بات نہیں  نکل آئے ہیں عدمؔ سے تو جھجکنا کیسا در بدر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید عبدالحمید عدم

دن گزر جائیں گے سرکار ـ کوئی بات نہیں
زخم بھر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں

Saturday, 14 January 2017

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول ۔۔ مجید امجد

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول
حسیں گلاب کے پھول ارغواں گُلاب کے پھول

افق افق پہ زمانوں کی دھند سے ابھرے
طیور، نغمے، ندی، تتلیاں، گلاب کے پھول

کس انہماک سے بیٹھی کشید کرتی ہے
عروسِ گُل بہ قبائے جہاں، گلاب کے پھول

جہانِ گریۂ شبنم سے کس غرور کے ساتھ
گزر رہے ہیں، تبسّم کناں، گلاب کے پھول

یہ میرا دامنِ صد چاک، یہ ردائے بہار
یہاں شراب کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول

کسی کا پھول سا چہرہ اور اس پہ رنگ افروز
گندھے ہوئے بہ خمِ گیسواں، گلاب کے پھول

خیالِ یار، ترے سلسلے نشوں کی رُتیں
جمالِ یار، تری جھلکیاں گلاب کے پھول

مری نگاہ میں دورِ زماں کی ہر کروٹ
لہو کی لہر، دِلوں کا دھواں، گلاب کے پھول

سلگتے جاتے ہیں چُپ چاپ ہنستے جاتے ہیں
مثالِ چہرۂ پیغمبراں گلاب کے پھول

یہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں باہیں
چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول

کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

مجید امجد
۔۔۔۔۔۔۔۔

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی ۔۔۔ منیر نیازی

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی  بجھ گیا دِل چراغ جلتے ہی   کھل گئے شہرِ غم کے دروازے  اِک زرا سی ہوا کے چلتے ہی   کون تھا تُو کہ پھر نہ دیکھا تجھے  مِٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی   تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے عکسِ دیوار کے بدلتے ہی  خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں چڑھ گیا زہر گل مسلتے ہی   ۔۔۔۔۔۔۔ منیر نیازی

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

کھل گئے شہرِ غم کے دروازے
 اِک زرا سی ہوا کے چلتے ہی 

کون تھا تُو کہ پھر نہ دیکھا تجھے
 مِٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی

تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
عکسِ دیوار کے بدلتے ہی 

خون سا لگ ہے ہاتھوں میں
چڑھ گیا زہر گل مسلتے ہی

۔۔۔۔۔۔۔۔
منیر نیازی

Friday, 13 January 2017

یہ پری چہرہ لوگ ۔۔ غلام عباس

یہ پری چہرہ لوگ   پت جھڑ کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ بیگم بلقیس تراب علی ہر سال کی طرح اب کے بھی اپنے بنگلے کے باغیچے میں مالی سے پودوں اور پیڑوں کی کانٹ چھانٹ کرارہی تھیں۔ اس وقت دن کے کوئی گیارہ بجے ہوں گے۔ سیٹھ تراب علی اپنے کام پر اور لڑکے لڑکیاں اسکولوں کالجوں میں جا چکے تھے۔ چنانچہ بیگم صاحب بڑی بے فکری کے ساتھ آرام کرسی پر بیٹھی مالی کے کام کی نگرانی کر رہی تھیں۔   بیگم تراب علی کو نگرانی کے کاموں سے ہمیشہ بڑی دلچسپی رہی تھی۔ آج سے پندرہ سال پہلے جب ان کے شوہر نے جو اس وقت سیٹھ تراب علی نہیں بلکہ شیخ تراب علی کہلاتے تھے اور سرکاری تعمیرات کے ٹھیکے لیا کرتے تھے۔ اس نواح میں بنگلہ بنوانا شروع کیا تھا تو بیگم صاحب نے اس کی تعمیرات کے کام کی بڑی کڑی نگرانی کی تھی اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ یہ بنگلہ بڑی کفایت کے ساتھ اور تھوڑے ہی دنوں میں بن کر تیار ہو گیا تھا۔    بیگم تراب علی کا ڈیل ڈول مردوں جیسا تھا۔ آواز اونچی اور گھنبیر اور رنگ سانولا جو غصے کی حالت میں سیاہ پڑ جایا کرتا۔ چنانچہ نوکر چاکر ان کی ڈانٹ ڈپٹ سے تھر تھر کانپنے لگتے اور گھر بھر پر سناٹا چھا جاتا۔ ان کی اولاد میں سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں سن بلوغت کو پہنچ چکے تھے مگر کیا مجال جو ماں کے کاموں میں دخل دینا یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرنا پسند کرتے تھے۔ چنانچہ بیگم صاحب پورے خاندان پر ایک ملکہ کی طرح حکمراں تھیں۔ عمر اور خوش حالی کے ساتھ ساتھ ان کی فربہی بھی بڑھتی جا رہی تھی اور فربہی کے ساتھ رعب اور دبدبہ بھی۔  ان پندرہ برس میں جو انہوں نے اس نواح میں گزارے تھے وہ یہاں کے قریب قریب سبھی رہنے والوں سے بخوبی واقف ہو گئی تھیں۔ بعض گھروں سے میل ملاپ بھی تھا اور کچھ بیبیوں سے دوستی بھی۔ وہ اس علاقے کے حالات سے خود کو با خبر رکھتی تھیں۔ یہاں تک کہ املاک کی خرید و فروخت اور بنگلوں میں نئے کرایہ داروں کی آمد اور پرانے کرایہ داروں کی رخصت کی بھی انہیں پوری پوری خبر رہتی تھی۔   اس وقت بیگم تراب علی کی تیز نظروں کے سامنے مالی کا ہاتھ بڑی پھرتی سے چل رہا تھا ۔ اس نے پودوں اور چھوٹے چھوٹے پیڑوں کی کاٹ چھانٹ تو قینچی سے کھڑے کھڑے ہی کر ڈالی تھی اور اب وہ اونچے اونچے درختوں پر چڑھ کر بیگم صاحب کی ہدایت کے مطابق سوکھے یا زائد ٹہنے کلہاڑی سے کاٹ کاٹ کر نیچے پھینک رہا تھا ۔   کچھ دیر بعد بیگم صاحب بیٹھے بیٹھے تھک گئیں اور کرسی سے اٹھ کر بنگلے کی چار دیواری کے ساتھ ساتھ ٹہلنے لگیں۔ بنگلے کے آگے کی دیوار کے ساتھ ساتھ جو پیڑ تھے ان میں دو ایک تو خاصے بڑے تھے جن کی چھاؤں گھنی تھی خاص کر ولائتی بادام کا پیڑ۔ اس کا سایہ نصف بنگلے کے اندر اور نصف باہر سڑک پر رہتا تھا۔ دن کو جب دھوپ تیز ہو جاتی تو کبھی کبھی کوئی راہگیر یا خوانچے والا زرا دم لینے کو اس کے سائے میں بیٹھ جاتا تھا۔   بیگم بلقیس تراب علی جیسے ہی اس پیڑ کے پاس پہنچیں ان کے کان میں دیوار کے باہر سے کسی کے بولنے کی آواز آئی۔ انہوں نے اس آواز کو فورا پہنچان لیا۔ یہ اس علاقے کی مہترانی سگو کی آواز تھی جو اپنی بیٹی جگو سے بات کر رہی تھی۔ یہ ماں بیٹیاں بھی اکثر دوپہر کو اسی پیڑ کے نیچے سستانے یا ناشتہ پانی کرنے بیٹھ جایا کرتی تھیں۔   بیگم بلقیس تراب علی نے پہلے تو ان کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیا۔ مگر ایکا ایکی ان کے کان میں کچھ ایسے الفاظ پڑے کہ وہ چونک اٹھیں۔ سگو اپنی بیٹی سے پوچھ رہی تھی:  ''کیوں ری تو نے طوطے والی کے ہاں کام کر لیا تھا؟'' ''ہاں'' جگو نے اپنی مہین آواز میں جواب دیا۔  'اور کھلونے والی کے ہاں؟' "وہاں بھی۔" "اور تپ دق والی کے ہاں؟" اب کے جگو کی آواز سنائی نہ دی۔ شائد اس نے سر ہلا دینے پر ہی اکتفا کیا ہوگا۔ ''اور کالی میم کے ہاں؟'' اب تو بیگم تراب علی سے ضبط نہ ہو سکا اور وہ بے اختیار پکار اٹھیں: ''سگو ۔ اری او سگو۔ ذرا اندر تو آئیو۔"  سگو کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ اس کی باتیں کوئی سن رہا ہوگا۔ خصوصا بیگم بلقیس تراب علی جن کی سخت مزاجی اور غصے سے اس کی روح کانپتی تھی۔ وہ پہلے تو گم سم رہ گئی۔ پھر مری ہوئی آواز میں بولی:  'ابھی آئی بیگم صاحب!' تھوڑی دیر بعد وہ آنچل کو سینے سے ڈھانپتی، لہنگا ہلاتی، بنگلے کا پھاٹک کھول اندر آئی۔ جگو اس کے پیچھے پیچھے تھی۔ دونوں ماں بیٹیوں کے کپڑے میلے چکٹ ہو رہے تھے۔ دونوں نے سر میں سرسوں کا تیل خوب لیسا ہوا تھا۔   ''سلام بیگم صاحب!'' سگو نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ ابھی تک اس کی سمجھ میں نہ آیا تھا کہ کس قصور کی بنا پر اسے بیگم صاحب کے حضور پیش ہونا پڑآ۔   بیگم صاحب نے تحکمانہ لہجے میں پوچھا:  ''کیوں ری مردار یہ تو باہر بیٹھی کن لوگوں کے نام لے رہی تھی؟''  ''کیسے نام بیگم صاحب؟''  ''اری تو کہہ رہی تھی نا طوطے والی، کھلونے والی، تپ دق والی، کالی میم؟''  سگو نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:  ''وہ تو بیگم صاحب ہم آپس میں باتیں کررہے تھے۔"  ''دیکھ سگو سچ سچ بتا دے ورنہ میں جیتا نہ چھوڑوں گی۔"  سگو پل بھر خاموش رہی۔ اس نے جان لیا کہ بیگم صاحب سے بات چھپانی مشکل ہوگی اور اس نے بڑی لجاجت سے کہنا شروع کیا:  "وہ بات یہ ہے بیگم صاحب ہم لکھت پڑھت تو جانتے نہیں اور ہم کو لوگوں کے نام بھی معلوم نہیں۔ سو ہم نے اپنی نسانی کے لئے ان کے نام رکھ لیے ہیں۔"  ''اچھا تو یہ طوطے والی کون ہے؟''  ''وہ جو بڑا سا گھر ہے نہ اگلی گلی میں نکڑ والا۔۔۔"  ''فاروق صاحب کا؟''  ''جی بیگم صاحب وہی۔ ان کی بیوی نے طوطا پال رکھا ہے۔ ہم ان کو نسائی کے لیے طوطے والی کہتے ہیں۔"  ''اور یہ کھلونے والی کون ہے''؟  ''وہ جو مسیت کے برابر والے بنگلے میں رہتی ہیں۔"  بیگم تراب علی نے اس علاقے کا نقشہ ذہن میں جمایا زرا دیر غور کیا ۔ پھر بولیں:  ''اچھا بخش الٰہی صاحب کا مکان؟"  ''جی سرکار وہی۔"  ''اری کمبخت تو ان کی ''بیگم کو کھلونے والی'' کیوں کہتی ہے۔ جانتی بھی ہے وہ تو لکھ پتی ہیں لکھ پتی، کھلونے تھوڑا ہی بیچتے ہیں۔"  ''جب دیکھو ان کی کوٹھی میں ہر طرف کھلونے ہی کھلونے بکھرے رہتے ہیں۔ بہت بڑھیا بڑھیا کھلونے۔ یہ بڑے بڑے ہوائی جہاج۔ چلنے والی باتیں کرنے والی گڑیا۔ بجلی کی ریل گاڑی، موٹریں ۔۔۔"  ''اری موئی یہ کھلونے تو وہ خود اپنے بچوں کے کھیلنے کے لیے ولایت سے منگواتے ہیں بیچتے تھوڑا ہی ہیں۔''  ''ہم تو نسانی کے لیے کہتے ہیں بیگم صاحب۔''  ''اور یہ کالی میم کس بی صاحبہ کا خطاب ہے؟''  وہ جو کرسٹان رہتے ہیں نا۔۔۔۔"  ''مسٹر ڈی فلوری؟''  ''جی ہاں وہی''  ''ہے کم بخت تیرا ناس جائے۔۔۔ اور تپ دق والی کون ہے؟''  ''ادھر کو'' سگو نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ''وہ بڑی سڑک پر پہلی گلی کے نکڑ والا جو گھر۔ اس میں ہر وکھت ایک عورت پلنگ پر پڑی رہے ہے اور میج پر بہت سی دواؤں کی سیسیاں نجر آوے ہیں۔"  بیگم صاحب بے اختیار مسکرادیں۔ ان کا غصہ اب تک اتر چکا تھا اور وہ سگو کی باتوں کو بڑی دل چسپی سے سن رہی تھیں کہ اچانک ایک بات ان کے ذہن میں آئی اور ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔ ماتھے پر بل پڑ گئے۔ ڈانٹ کر بولیں:  ''کیوں ری مردار تو نے میرا بھی تو کوئی نہ کوئی نام ضرور رکھا ہوگا۔ بتا کیا نام رکھا ہے؟ سچ سچ بتائیو، نہیں تو مارتے مارتے برکس نکال دوں گی۔"  سگو زرا ٹھٹکی مگر فورا سنبھل گئی۔   ''بیگم صاحب چاہے ماریئےچاہے جندہ چھوڑیے ہم تو آپکو بیگم صاحب ہی کہتے ہیں۔"  ''چل جھوٹی مکار''  ''میں جھوٹ نہیں بولتی سرکار چاہے جس کی قسم لے لیجیے۔۔۔ ہم بیگم صاحب کو بیگم صاحب ہی کہتے ہیں نا؟''  جگو نے ماں کی طرف دیکھا اور جلدی سے منڈیا ہلادی۔   '' مجھے تو تم ماں بیٹیوں کی بات پر یقین نہیں آتا'' بیگم تراب علی بولیں۔ اس پر سگو خوشامدانہ لہجہ میں کہنے لگی:  ''اجی آپ ایسی سکھی(سخی) اور گریب پرور ہیں۔ بھلا ہم آپ کی سان میں ایسی گستاکھی کر سکتے ہیں۔"   بیگم صاحب کا غصہ کچھ دھیما ہوا اور انہوں نے سگو کو نصیحت کرنی شروع کی:   ''دیکھو سگو۔ اس طرح شریف آدمیوں کے نام رکھنا ٹھیک نہیں۔ اگر ان کو پتہ چل جائے تو تجھے ایک دم نوکری سے جواب دے دیں۔"  "اچھا بیگم صاحب۔ اس دفعہ تو ہمیں معاف کر دیں۔ آگے کو ہم کسی کو ان ناموں سے نہیں بلائیں گے۔"   سگو نے جب دیکھا کہ بیگم صاحب کا غصہ بلکل اتر گیا ہے تو اس نے زمین پر پڑے ہوئے ٹہنوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا۔  ''بیگم صاحب'' اس نے بڑی لجاجت سے کہنا شروع کیا،" کھدا حجور کے صاحب اور بچوں کو سدا سکھی رکھے۔ یہ جو دو ٹہنے آپ نے کٹوائے ہیں یہ تو آپ ہمیں دے دیجیئے سرکار۔ جھونپڑی کی چھت کئی دنوں سے ڈوبی ہوئی ہے ۔ اس کی مرمت ہو جائے گی۔ گریب دعا دیں گے۔"  بیگم بلقیس تراب علی پہلے خاموش رہیں۔ مگر جب سگو نے زیادہ گڑگڑانا شروع کیا تو پسیج گئیں۔  ''اچھا اپنے آدمی سے کہنا اٹھا لے جائے۔''  ''کھدا آپ کو سدا سکھی رکھے بیگم صاحب کھدا۔۔۔''  بیگم صاحب اس کی دعا پوری نہ سن سکیں ۔ کیونکہ ان کو ایک ضروری کام یاد آ گیا اور وہ بنگلے کے اندر چلی گئیں۔  دوپہر کو بارہ بجے کے قریب سگو اور جگو سب کام نمٹا گھر جا رہی تھیں کہ سامنے ایک مہتر منڈاسا باندھے جھاڑو سے سڑک پر گرد غبار کے بادل اڑاتا جلد جلد چلا آ رہا تھا۔   دونوں ماں بیٹیاں اس کے قریب پہنچ کر رک گئیں:  ''آج بڑی دیر میں سڑک جھاڑنے نکلے ہو جگو کے باوا؟''  ''ہاں جرا آنکھ دیر میں کھلی تھی۔"  یہ کہہ کر وہ مہتر آگے بڑھ جانا چاہتا تھا کہ اس کی بیوی نے اسے روک لیا۔   ''سن جگو کے باوا۔ جب سڑک جھاڑ چکیو۔ تو ڈھڈو کے بنگلے پر چلے جائیو۔ وہاں دو بڑے بڑے ٹہنے کٹے پڑے ہیں انہیں اٹھا لائیو۔ میں نے "ڈھڈو" سے اجاجت لے لی ہے ۔۔۔۔ "  کلیاتِ غلام عباس انتخاب حسنین حیدر (ریختہ)

یہ پری چہرہ لوگ

پت جھڑ کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ بیگم بلقیس تراب علی ہر سال کی طرح اب کے بھی اپنے بنگلے کے باغیچے میں مالی سے پودوں اور پیڑوں کی کانٹ چھانٹ کرارہی تھیں۔ اس وقت دن کے کوئی گیارہ بجے ہوں گے۔ سیٹھ تراب علی اپنے کام پر اور لڑکے لڑکیاں اسکولوں کالجوں میں جا چکے تھے۔ چنانچہ بیگم صاحب بڑی بے فکری کے ساتھ آرام کرسی پر بیٹھی مالی کے کام کی نگرانی کر رہی تھیں۔ 
بیگم تراب علی کو نگرانی کے کاموں سے ہمیشہ بڑی دلچسپی رہی تھی۔ آج سے پندرہ سال پہلے جب ان کے شوہر نے جو اس وقت سیٹھ تراب علی نہیں بلکہ شیخ تراب علی کہلاتے تھے اور سرکاری تعمیرات کے ٹھیکے لیا کرتے تھے۔ اس نواح میں بنگلہ بنوانا شروع کیا تھا تو بیگم صاحب نے اس کی تعمیرات کے کام کی بڑی کڑی نگرانی کی تھی اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ یہ بنگلہ بڑی کفایت کے ساتھ اور تھوڑے ہی دنوں میں بن کر تیار ہو گیا تھا۔ 
بیگم تراب علی کا ڈیل ڈول مردوں جیسا تھا۔ آواز اونچی اور گھنبیر اور رنگ سانولا جو غصے کی حالت میں سیاہ پڑ جایا کرتا۔ چنانچہ نوکر چاکر ان کی ڈانٹ ڈپٹ سے تھر تھر کانپنے لگتے اور گھر بھر پر سناٹا چھا جاتا۔ ان کی اولاد میں سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں سن بلوغت کو پہنچ چکے تھے مگر کیا مجال جو ماں کے کاموں میں دخل دینا یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرنا پسند کرتے تھے۔ چنانچہ بیگم صاحب پورے خاندان پر ایک ملکہ کی طرح حکمراں تھیں۔ عمر اور خوش حالی کے ساتھ ساتھ ان کی فربہی بھی بڑھتی جا رہی تھی اور فربہی کے ساتھ رعب اور دبدبہ بھی۔
ان پندرہ برس میں جو انہوں نے اس نواح میں گزارے تھے وہ یہاں کے قریب قریب سبھی رہنے والوں سے بخوبی واقف ہو گئی تھیں۔ بعض گھروں سے میل ملاپ بھی تھا اور کچھ بیبیوں سے دوستی بھی۔ وہ اس علاقے کے حالات سے خود کو با خبر رکھتی تھیں۔ یہاں تک کہ املاک کی خرید و فروخت اور بنگلوں میں نئے کرایہ داروں کی آمد اور پرانے کرایہ داروں کی رخصت کی بھی انہیں پوری پوری خبر رہتی تھی۔