Wednesday, 6 May 2015

تابش دہلوی ۔۔ تعارف اور کلام میں سے انتخاب


دبستانِ دہلی کے آخری چراغ اردو کے مایہ ناز غزل گو شاعر، دانشور اور براڈ کاسٹر مسعود الحسن تابش دہلوی نے 9 نومبر 1910 کو دہلی کے علمی گھرانے میں جنم لیا۔ 1932ء میں پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ 1939ء میں آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہوئے۔ ان کا آڈیشن پطرس بخاری نے لیا اور انہیں پروگرام اناؤنسر کے لیے منتخب کیا جس کے کچھ عرصے بعد انہوں نے خبریں بھی پڑھنا شروع کیں۔ ریڈیو کے لئے 3 جون 1947ء کوپاکستان کے قیام کے تاریخی اعلان کی خبر تابش صاحب ہی نے ترتیب دی تھی ۔ تقسیم ہند کے بعد 17 ستمبر 1947ء کو ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور اپنی زندگی ریڈیو پاکستان کے لئے وقف کر دی۔ شاعری میں آپ نے فانی بدایونی سے اصلاح لی ۔حکومت پاکستان نے تابش دہلوی کی علمی خدمات کے صلے میں انہیں ’’تمغۂ امتیاز‘‘ سےنوازا۔ آپ کا انتقال23 ستمبر 2004ء کو کراچی میں ہوا۔

انتخاب تابش دہلوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسماں سر پہ ہے جہاں جاؤں
یہ زمیں لے کے اب کہاں جاؤں

ہم قدم روزگار کا ہو کر
میں کہاں تک رواں دواں جاؤں



مجھ سے کھوئی گئی شناخت مری
بھیڑ میں ڈھونڈنے کہاں جاؤں

سوئے منزل ہجومِ شوق لیے
میں بھی مانندِ کارواں جاؤں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موسمِ ہجر و وصال اچھا ہے
قریۂ جاں کا یہ سال اچھا ہے

شورشِ عقل سے محفوظ رہیں
جو نہ آئے وہ خیال اچھا ہے

غم کہاں ملتا ہے دل کے بدلے
اتنی قیمت میں یہ مال اچھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اک شرر ہر نفس میں آتا ہے
سوزِ جاں کس کے بس میں آتا ہے

سر بسر میں اسیر ہوتا ہوں
جب بھی کوئی قفس میں آتا ہے

اس کا دامن میرا گریباں ہو
جب کہیں دسترس میں آتا ہے

دائمی روزِ وَصل اے تابش
دیکھیے کس برس میں آتا ہے

۔۔۔۔

کسی مزدور کا گھر کھلتا ہے
یا کوئی زخمِ نظر کھلتا ہے

دیکھنا ہے کہ طلسمِ ہستی
کس سے کھلتا ہے اگر کھلتا ہے

داؤ پر دَیر و حرم دونوں ہیں
دیکھیے کون سا گھر کھلتا ہے 

پھول دیکھا ہے کہ دیکھا ہے چمن
حسن سے حسنِ نظر کھلتا ہے

تُو تو دستک پہ دیے جا دستک
بند ہوتا ہے تو در کھلتا ہے

چھوٹی پڑتی ہے اَنا کی چادر
پاؤں ڈھکتا ہوں تو سر کھلتا ہے

ایسی شوریدہ سری سے حاصل
درِ زنداں نہیں سر کھلتا ہے

بند کر لیتا ہوں آنکھیں تابش
بابِ نظارہ نہ مگر کھلتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آئی تو ہوائے تازہ لیکن
تنکوں کی طرح بکھر گئے ہم

سورج کی طرح چڑھے ہوئے تھے 
دریا کی طرح اتر گئے ہم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارِ حیات اٹھائیے تنہا اٹھائیے
یہ بوجھ آپ سے نہیں اٹھتا اٹھائیے

وحشت میں خاک اڑانی ہی مقسوم ہے تو پھر
اک مشتِ خاک کیا سرِ صحرا اٹھائیے

ان خفتگانِ راہ کو ہمراہ لے چلیں
قدموں کے ساتھ نقشِ کفِ پا اٹھائیے

بیمارِ عصر جلد شفایاب ہو سکیں
گہوارے سے اک اور مسیحا اٹھائیے

دل میں نفاظِ شوق کی طاقت کہاں سے لائیں
کوزے میں کیا تلاطمِ دریا اٹھائیے

دنیا سے زندگی کا بڑا حوصلہ ملا
احساں کی طرح ہر غمِ دنیا اٹھائیے

نادیدہ منظروں کو اگر چاہیں دیکھنا
اپنی ہی ذات سے کوئی پردہ اٹھائیے

پا مردیوں سے گزرے ہیں جو راہِ شوق میں
پلکوں سے ان کی نقشِ کفِ پا اٹھائیے

تابش سہارا لیجیے نہ امید و بیم کا
تنہا کبھی حجابِ تمنا اٹھائیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تابش دہلوی کے متفرق اشعار

طریقے ظلم کے صیاد نے سارے بدل ڈالے
جو طائر اُڑ نہیں سکتا اسے آزاد کرتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔

آتی جاتی ہیں جو کوئے جاں سے
ان ہواؤں میں سنک جاتا ہوں
میں تو ہوں شاخِ ثمر وَر تابش
ٹوٹتا کم ہوں لچک جاتا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمعیں گل کر دی گئیں بزمِ حسینی کی مگر
تھی شبِ عاشور میں اہلِ صفا کی روشنی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اندوہِ جاں ہو یا غم جاناں کوئی تو ہو
کوئی حریفِ شوق تو ہو ہاں کوئی تو ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔

ربط کیا جسم و جاں سے اٹھتا ہے
پردہ اک درمیاں سے اٹھتا ہے
تو ہی رہتا ہے دیر تک موجود
بزم میں تو جہاں سے اٹھتا ہے


اک ہیولا ہے گھر خرابی کا
ورنہ کیا خاک گھر میں رکھا ہے


محرومیوں میں خوب پناہیں تلاش کیں
میں تھک گیا جہاں اسے منزل کہا گیا


گزرا اسی پہ سہل یہ طوفانِ رنگ و بو
جو موسمِ بہار میں دیوانہ بن گیا


عشق بھی تابش نہیں وجہِ نشاط
اب یہ رسمِ درد بھی دل سے اٹھی


آئینہ در آئینہ در آئینہ ترا حسن
حیراں ہوں تیرے طالبِ دیدار کہاں تک


پھیلی ہوئی ہر سمت کڑی دھوپ ہے تابش
جائے گا کوئی سایۂ دیوار کہاں تک

تابش دہلوی ناقابلِ فراموش نام نہیں تھے لیکن انہیں سرسری نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا، ایک سلسلہ ان پر ختم ہوتا ہے اور روایتی غزل کا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں روایتی غزل ختم ہو گئی، اب بھی بہت سے چبائے ہوئے نوالے چباتے اور داد پاتے ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو ایسے ہیں جیسے بیس تیس کے نہ ہوں ستر اسی کے ہوں اور انہیں دنیا کی کوئی خبر ہی نہ لگی ہو۔ ان کے پاس بے خبری کو دولت ہے لیکن تابش ان سب کے بزرگ ہوتے ہوئے بھی اس دولت کے اور اس کے مزوں کے حق میں نہیں تھے انہیں روایت کا بھی پتہ تھا اور کلاسیکیت کا بھی اور وہ ان دونوں کو گڈ مڈ بھی نہیں کرتے تھے۔وہ ایک وضع دار اور بہر معنی غیر ترقی پسند شاعر اور آدمی تھے ورنہ دنیا داروں کے لیے پچھلے نوے برسوں میں کیا کیا موقع نہیں آئے اور وہ کیا سے کیا نہیں بنے۔دلی والے تھے، خود کو بدایوں والے فانی کا شاگرد کہتے اور مانتے تھے لیکن مارے ہوئے میر تقی میر کے تھے۔زبان و بیان کی سادگی پُر کاری کے رسیا بھی تھے پر دلی کی لغت و محاورے بھی نہیں چھوڑ تے تھے۔اس کے علاوہ جس شاعر سے متاثر ہوئے وہ یاس یگانہ چنگیزی تھے سو فانی کا حُزن وملال، میر کی سادگی اور پُر کاری اور یگانہ کی چستی۔ اس پر بیدل، خسرو اور غالب کا وہ مطالعہ جس کے معنی ہمارے زمانے میں شاذ و نادر دکھائی دیتے ہیں۔

فی زمانہ تو پڑھنے لکھنے کا کام کرنے والے کو پڑھا لکھا جانا جاتا ہے لیکن تابش صاحب پڑھے لکھے آدمی تھے لیکن بولنے اور لکھنے دونوں میں کفایت شعارتھے۔ نوے سے اوپر کی عمر پر پانچ شعری مجموعے اور ایک کتاب نثر کی، بس۔ایک اور بات کہ آل انڈیا ریڈیو سے ریڈیو پاکستان تک عملی زندگی کا بڑا حصہ براڈکاسٹر رہے اور ان لوگوں کے ساتھ جن پر ہمارے زمانے کا اردو ادب کھڑا ہے پر اس کے باوجودتابش دہلوی فراق یا ناصر کاظمی نہیں ہیں فیض بھی نہیں ہیں اور فراز بھی نہیں۔ان کا ادب سے تعلق اور زندگی ایسی ہے جس پر ان نوجوانوں کو غور کرنا چاہیے جو ادیب بننا چاہتے ہیں۔کہتے ہیں رخصتی پر ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیں لیکن میں تابش صاحب کے بارے میں جس قدر سوچتا ہوں میرے لیے یہسوال اسی قدر اہم ہوتا جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں تابش صاحب کی شاعری کو اوّل تا آخر غور سے پڑھنا چاہیے اور معلوم کرنا چاہیے کہ مسعود احمد نے بے نام مسعود احمد یا مسعود احمد براڈکاسٹر بننے پر تابش دہلوی بننے کو کیوں ترجیح دی۔ یہ کام انہوں نے اتنی شہرت کے لیے نہیں کیا ہو گا جو انہیں نوے سالوں کی زندگی اور اس میں کی گئی شعر گوئی نے دی۔