کیا دیکھتا خوشی سے ہے اوروں کے گھر بسنت ۔۔ مومن خاں دھلوی

کیا دیکھتا خوشی سے ہے اوروں کے گھر بسنت بھولی ہے یاں کچھ اور ہی اے بے خبر بسنت  واں تُو ہے زرد پوش یہاں میں ہوں زرد رنگ واں تیرے گھر بسنت ہے یاں میرے گھر بسنت  یہ کس کے زرد چہرے کا اب دھیان بندھ گیا میری نظرمیں پھرتی ہے آٹھوں پہر بسنت  آوارگی ہے باعثِ نشو و نما کے دیکھ سرسبز جب ہوئی کہ پھری در بہ در بسنت  ہم قیدیوں کی چاہییں سونے کی بیڑیاں اے چارہ گر جہان میں ہے جلوہ گر بسنت  اس رشک گل کے ہاتھ تلک کب پہنچ سکے پھولی ہے باغِ عشق کی یاں آن کر بسنت  ہے اولِ بہار سیہ مستیوں کا جوش دکھلائے ہے کچھ اب کی بہارِ دِگر بسنت  مومن یہ کیا کہا کہ ہے رسمِ ہنود اب کاہے کو لائیں گے وہ مری گور پر بسنت ۔۔۔۔۔۔  مومن خاں مومن دہلوی انتخاب۔ حسنین حیدر ریختہ

کیا دیکھتا خوشی سے ہے اوروں کے گھر بسنت
بھولی ہے یاں کچھ اور ہی اے بے خبر بسنت

واں تُو ہے زرد پوش یہاں میں ہوں زرد رنگ
واں تیرے گھر بسنت ہے یاں میرے گھر بسنت

یہ کس کے زرد چہرے کا اب دھیان بندھ گیا
میری نظرمیں پھرتی ہے آٹھوں پہر بسنت

آوارگی ہے باعثِ نشو و نما کے دیکھ
سرسبز جب ہوئی کہ پھری در بہ در بسنت

ہم قیدیوں کی چاہییں سونے کی بیڑیاں
اے چارہ گر جہان میں ہے جلوہ گر بسنت

اس رشک گل کے ہاتھ تلک کب پہنچ سکے
پھولی ہے باغِ عشق کی یاں آن کر بسنت

ہے اولِ بہار سیہ مستیوں کا جوش
دکھلائے ہے کچھ اب کی بہارِ دِگر بسنت

مومن یہ کیا کہا کہ ہے رسمِ ہنود اب
کاہے کو لائیں گے وہ مری گور پر بسنت
۔۔۔۔۔۔

کلیاتِ مومن خاں مومن دو جلدیں آپ یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں